Author: umeemasumaiyyafuzail

At NovelKiStories786.com, we believe that every story has a soul and every reader deserves a journey. We are a dedicated platform committed to bringing you the finest collection of novels, short stories, and literary gems from diverse genres.

  شاہ نے تکیے پر بازو رکھی، اپنا چہرہ مہر کے چہرے کے قریب لے آیا۔ مہر ماتھے پر بل رکھے اسے گھور رہی تھی۔ ’’بتاؤ وہ سونے کی جگہ کہاں ہے؟‘‘ شاہ نے اس کی بھوری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ “کیا میں جہاں چاہوں سو سکتا ہوں؟” مہر آہستہ سے بولی۔ شاہ اپنی بھوری جھیل جیسی آنکھوں میں ڈوب رہا تھا۔ “تمہاری چھوٹی ناک ہمیشہ غصے میں رہتی ہے۔” شاہ نے ناک دباتے ہوئے کہا۔ “پیچھے ہٹنا۔” مہر نے شہادت کی انگلی اپنے سینے پر رکھتے ہوئے کہا۔ “کیوں؟” شاہ نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔ “کیونکہ…

Read More

شاہ نے نرمی سے اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔ “اب کیا کرو گی…؟”اس نے اس کی گہری آنکھوں میں یوں دیکھا جیسے کسی بے کنار سمندر میں جھانک رہا ہو۔ مہر نے خاموشی سے اسے گھورا، مگر اس کی نظریں جھک نہ سکیں۔ا۔ “تمہیں میرے لیے ایک کام کرنا ہو گا۔” مہر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔ “کیسا کام؟” بادشاہ نے تنگ ابرو کے ساتھ کہا۔ “مجھے کمرے میں جانا ہے۔” “کس موقع پر؟” بادشاہ نے ضبط کرتے ہوئے کہا۔ “مجھے وہاں سے ایک لڑکی نکالنی ہے۔” مہر نے بغور شاہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ “یہ آپ کو…

Read More

      “تو میں اور کیا کرتی…؟”حریم بمشکل اپنی بات مکمل کر پائی۔ ازلان کی گرم سانسیں حرم کو اپنے بہت قریب محسوس ہو رہی تھیں… دونوں کے درمیان صرف چند انچ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ “کیا تمہاری عقل گھاس چرنے گئی ہے؟”ازلان نے دو انگلیاں اپنے ماتھے پر رکھتے ہوئے جھنجھلاہٹ سے کہا۔ حرم نے گھبراہٹ میں اس کی طرف دیکھا”۔ “ہمیں جانے دو۔” حرم نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ اذلان حرم کے چہرے کے اتار چڑھاؤ کو دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔ اگلا، اگر آپ میری اجازت کے بغیر کوئی غلط کام…

Read More

مہر صبح سے سوتے رہنے کے باوجود عجیب سی تھکن محسوس کر رہی تھی۔ “پتہ نہیں بھابھی… کچن میں کچھ ہے بھی یا نہیں، اور یہ بھی نہیں معلوم کہ شاہ واپس آئے گا یا نہیں۔”وہ فکرمندی سے کہتے ہوئے راہداری کی طرف بڑھ گئی۔ چلتے چلتے اس کی نظر بائیں جانب پڑی، جہاں کچن تھا۔وہ اندر داخل ہوئی، دیوار پر لگے سوئچ بورڈ کو ٹٹولا اور لائٹ جلا دی۔ پل بھر میں کچن روشنی سے بھر گی تین سلیب دیواروں کے ساتھ بہت بڑا باورچی خانہ۔ مہر نے آگے آ کر کیبن کھولا اور دیکھنے لگی۔ “چاول، دال،…

Read More

“سر، آپ نے دیکھا؟ اسے تو کلاس میں بیٹھنے کا بھی سلیقہ نہیں… مجھے سمجھ نہیں آتا کہ وہ اس یونیورسٹی میں آخر کر کیا رہی ہے      اذلان کا غصہ بڑھتا جا رہا تھا۔ “معاف کیجئے گا، یہ غلطی سے ہوا ہے۔” حرم آنکھوں میں آنسو لیے بولا۔ “بہت ہو گئی اذلان، حریم نے معافی مانگ لی ہے، اب بیٹھو، مزید وقت مت ضائع کرو۔” اذلان بولنے کے لیے لب کھولنے ہی والا تھا کہ پروفیسر بولا۔ اذلان نے ہونٹ بھینچے اور واپس اپنی سیٹ پر آ گیا۔ حرم نے اپنی توہین محسوس کی اور خود کو اندر…

Read More

“مجھے چھوڑو…!” مہرما نے احتجاج کیا، اس کی آواز میں بے بسی صاف جھلک رہی تھی۔ مگر شاہ نے اس کی بات سنے بغیر اسے اپنی طرف کھینچنا جاری رکھا۔ باقی عورتیں بھی خاموشی سے کمرہ چھوڑ کر باہر نکل گئیں مہرما چھٹکارا پانے کی پوری کوشش کر رہی تھی، مگر اس کی ہر جدوجہد بے اثر ثابت ہو رہی تھی۔ “زلیخا بیگم… یہ فیصلہ آپ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ آپ اسے اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتیں!” مہر میری گردن پر کھیل رہی تھی۔ زلیخا بیگم تشویش سے اسے دیکھنے لگیں۔ “مجھے اکیلا چھوڑ دو۔ تمہیں…

Read More

“یہاں امیروں کی محفلیں جمتیں ہیں، جہاں بے خوف لڑکیاں آیا کرتی ہیں… یہاں شرم و حیا کی حدیں اتنی سختی سے برقرار نہیں رہتیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ تم خود ہی سمجھ جاؤ گی کہ یہی تمہارے حق میں بہتر ہے۔” مہر کی آواز میں تلخی نمایاں تھی۔ “اوہ… کیا تم واقعی اتنی بدتمیز ہو؟” اس نے جھجکتے ہوئے اس نازک چہرے کو دیکھ کر کہا۔ “ہاں، میں بدتمیز ہی ہوں۔” مہر نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ وہ نم آنکھوں سے مہر کو دیکھتی رہ گئی۔ مہر نے مزید کچھ کہنے کی ضرورت محسوس نہ کی اور باہر نکل…

Read More

                                                                                                     “ہاں بابا سائیں۔” شاہ نے فون کان سے لگایا اور آہستہ قدموں سے باہر آ گیا۔ “آپ کہاں ہیں؟” اس نے نرم لہجے میں پوچھا۔ “سب خیریت ہے۔” شاہ نے تفصیل بتانا مناسب نہ سمجھا۔ “شاویز کے بارے میں معلوم کرو۔ ہم نے سنا ہے کہ آج برہان کے ساتھ ایسا…

Read More

لاک یہ میرا جہاں ہے۔ اثر تمہارا سا لگتا ہے۔ تمہاری آنکھوں میں کوئی جادو ہے، یہ دل اب تک اسی میں کھویا ہوا ہے۔ یہ اب تک کیوں ہے یہ محبت کی فطرت ہے شرابی دل تمہارا چور ہے۔ پیارے پیارے تو کوئی ہوش نہیں ہے اس کا اثر کیا ہے؟ کوئی شعور نہیں ہے اس کا اثر کیا ہے؟ دلبر تم سے ملنے کے بعد جب شاہ پرندوں کے نظارے سے اندر آیا تو لڑکیاں دھن پر ناچ رہی تھیں۔ مدھم روشنیوں میں خوبصورتیاں ناچ رہی تھیں، چاروں طرف اندھیرا تھا اور ان پر روشنیاں جل رہی تھیں۔…

Read More

तकमील आरज़ू ……..  जिस वक़्त इल्यास ने झंडा लहराया ठीक उसी वक़्त कई ख़ुशी मुसलमानो ने मिल कर सुबह की अज़ान दी। एक तो सुबह का  वक़्त था दूसरा तूफान के बाद का सा सुकून छाया हुआ था अज़ान  की दिलकश आवाज़ तमाम क़िला में गूँज उठी अज़ान सुनते ही मुस्लमान जहा कही  भी थे खामोश खड़े हो गए। अज़ान  खत्म होते ही हर मुस्लमान ने दुआ पढ़ी और  अमीर के झंडा की तरफ चला। थोड़े ही देर में तमाम मुस्लमान वहा आकर जमा हो गए जोकि क़िला के अंदर वाले तमाम मैदान  में लाशे पड़ी…

Read More