Author: umeemasumaiyyafuzail

At NovelKiStories786.com, we believe that every story has a soul and every reader deserves a journey. We are a dedicated platform committed to bringing you the finest collection of novels, short stories, and literary gems from diverse genres.

                                                                   “سچی مچی کا کیا مطلب؟ جو گاؤں میں نظر آتی ہیں، کیا وہ بھینس نہیں ہوتیں؟”                                                                                                        …

Read More

  عجلت میں بال باندھے، دروازہ لاک کیا اور فون کان سے لگا کر بیٹھ گئی۔ “میں کب سے کال کر رہا ہوں، تم کہاں تھی؟” اذلان کی پریشان آواز نکلی۔ “وہ میرے بال کر رہی تھی۔” اس نے حرم کو سنبھالا اور بات کی۔ “ازلان، ذرا یہ تو بتاؤ کہ تم ہمارے گاؤں کس لیے آئے ہو؟” حرم کافی دیر سے اس بارے میں سوچ رہا تھا۔ ’’میرے چچا ابو کا گھر تمہارے گاؤں میں ہے لیکن اب ہم نہیں آتے۔‘‘ “کیوں؟” بیضول حرم کے ہونٹوں سے پھسل گیا۔ “ہم بے آواز ہیں۔” ازلان نے ناگواری سے منہ بنایا۔…

Read More

  اللہ معاف کرے ایسی لڑکیوں سے اپنی ماں کو تو کھا گئی اب ہمارے گھر بھی فساد برپا کرنے آ گئی۔۔۔” وہ خاموشی سے منہ بند کیے اندر چلے گئے۔ حریمہ آہستہ آہستہ قدم اٹھا رہی تھی، جیسے ہر قدم اس پر بھاری ہو۔ مہر نے اس کا درد بھرا چہرہ دیکھا تو فوراً اس کی طرف بڑھ آئی۔ “کیا ہوا حریمہ؟ تمہیں کچھ پتہ چلا؟” حرم نے اسے سہارا دیتے ہوئے مضبوطی سے تھام لیا۔ حریمہ نے آہستگی سے نفی میں سر ہلا دیا۔ “وہ نہیں آئیں گے، وہ پھر کبھی نہیں آئیں گے۔” حریمہ روتے ہوئے بول…

Read More

“دیکھو ازلان میں نے تمہیں شرٹ بھی لا کر دی تھی دو بار۔۔۔” حرم اونچی آواز میں بولا۔ “تو؟ ازلان نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔ ’’تو تمہیں مجھے کچھ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ حرم سوچتے ہوئے بولی۔ “واہ، بہت خوب کہا۔ میں تمہیں اس کھڑکی سے باہر پھینکنے کا سوچ رہا ہوں۔” ازلان نے کھڑکی سے نیچے دیکھتے ہوئے کہا۔ حرم کا چہرہ پیلا پڑ گیا۔ وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔ “کیا تم پاگل ہو؟ میں مرنے والا ہوں۔” حرم نے چونک کر کہا۔ “پھر کیا ہوا؟” ازلان بڑے اعتماد سے بولا۔ اذلان کے اطمینان کے…

Read More

  شاہ نے تکیے پر بازو رکھی، اپنا چہرہ مہر کے چہرے کے قریب لے آیا۔ مہر ماتھے پر بل رکھے اسے گھور رہی تھی۔ ’’بتاؤ وہ سونے کی جگہ کہاں ہے؟‘‘ شاہ نے اس کی بھوری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ “کیا میں جہاں چاہوں سو سکتا ہوں؟” مہر آہستہ سے بولی۔ شاہ اپنی بھوری جھیل جیسی آنکھوں میں ڈوب رہا تھا۔ “تمہاری چھوٹی ناک ہمیشہ غصے میں رہتی ہے۔” شاہ نے ناک دباتے ہوئے کہا۔ “پیچھے ہٹنا۔” مہر نے شہادت کی انگلی اپنے سینے پر رکھتے ہوئے کہا۔ “کیوں؟” شاہ نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔ “کیونکہ…

Read More

شاہ نے نرمی سے اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔ “اب کیا کرو گی…؟”اس نے اس کی گہری آنکھوں میں یوں دیکھا جیسے کسی بے کنار سمندر میں جھانک رہا ہو۔ مہر نے خاموشی سے اسے گھورا، مگر اس کی نظریں جھک نہ سکیں۔ا۔ “تمہیں میرے لیے ایک کام کرنا ہو گا۔” مہر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔ “کیسا کام؟” بادشاہ نے تنگ ابرو کے ساتھ کہا۔ “مجھے کمرے میں جانا ہے۔” “کس موقع پر؟” بادشاہ نے ضبط کرتے ہوئے کہا۔ “مجھے وہاں سے ایک لڑکی نکالنی ہے۔” مہر نے بغور شاہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ “یہ آپ کو…

Read More

      “تو میں اور کیا کرتی…؟”حریم بمشکل اپنی بات مکمل کر پائی۔ ازلان کی گرم سانسیں حرم کو اپنے بہت قریب محسوس ہو رہی تھیں… دونوں کے درمیان صرف چند انچ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ “کیا تمہاری عقل گھاس چرنے گئی ہے؟”ازلان نے دو انگلیاں اپنے ماتھے پر رکھتے ہوئے جھنجھلاہٹ سے کہا۔ حرم نے گھبراہٹ میں اس کی طرف دیکھا”۔ “ہمیں جانے دو۔” حرم نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ اذلان حرم کے چہرے کے اتار چڑھاؤ کو دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔ اگلا، اگر آپ میری اجازت کے بغیر کوئی غلط کام…

Read More

مہر صبح سے سوتے رہنے کے باوجود عجیب سی تھکن محسوس کر رہی تھی۔ “پتہ نہیں بھابھی… کچن میں کچھ ہے بھی یا نہیں، اور یہ بھی نہیں معلوم کہ شاہ واپس آئے گا یا نہیں۔”وہ فکرمندی سے کہتے ہوئے راہداری کی طرف بڑھ گئی۔ چلتے چلتے اس کی نظر بائیں جانب پڑی، جہاں کچن تھا۔وہ اندر داخل ہوئی، دیوار پر لگے سوئچ بورڈ کو ٹٹولا اور لائٹ جلا دی۔ پل بھر میں کچن روشنی سے بھر گی تین سلیب دیواروں کے ساتھ بہت بڑا باورچی خانہ۔ مہر نے آگے آ کر کیبن کھولا اور دیکھنے لگی۔ “چاول، دال،…

Read More

“سر، آپ نے دیکھا؟ اسے تو کلاس میں بیٹھنے کا بھی سلیقہ نہیں… مجھے سمجھ نہیں آتا کہ وہ اس یونیورسٹی میں آخر کر کیا رہی ہے      اذلان کا غصہ بڑھتا جا رہا تھا۔ “معاف کیجئے گا، یہ غلطی سے ہوا ہے۔” حرم آنکھوں میں آنسو لیے بولا۔ “بہت ہو گئی اذلان، حریم نے معافی مانگ لی ہے، اب بیٹھو، مزید وقت مت ضائع کرو۔” اذلان بولنے کے لیے لب کھولنے ہی والا تھا کہ پروفیسر بولا۔ اذلان نے ہونٹ بھینچے اور واپس اپنی سیٹ پر آ گیا۔ حرم نے اپنی توہین محسوس کی اور خود کو اندر…

Read More

“مجھے چھوڑو…!” مہرما نے احتجاج کیا، اس کی آواز میں بے بسی صاف جھلک رہی تھی۔ مگر شاہ نے اس کی بات سنے بغیر اسے اپنی طرف کھینچنا جاری رکھا۔ باقی عورتیں بھی خاموشی سے کمرہ چھوڑ کر باہر نکل گئیں مہرما چھٹکارا پانے کی پوری کوشش کر رہی تھی، مگر اس کی ہر جدوجہد بے اثر ثابت ہو رہی تھی۔ “زلیخا بیگم… یہ فیصلہ آپ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ آپ اسے اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتیں!” مہر میری گردن پر کھیل رہی تھی۔ زلیخا بیگم تشویش سے اسے دیکھنے لگیں۔ “مجھے اکیلا چھوڑ دو۔ تمہیں…

Read More