“یہ ٹھیک ہے لیکن اپنی طرف مت دیکھو۔” وہ پریشان نظر آ رہا تھا۔ ’’بابا سان، مہر کو دیکھو، اس میں کیا حرج ہے اور میں ضمانت دیتا ہوں کہ حریمہ بہت معصوم ہے۔‘‘ شاہ نے اعتماد سے کہا۔ “تم ٹھیک کہتے ہو ہمیں بھی خطرہ ہے کہ اگر ہم چھوٹے کی بات نہ مانیں تو وہ سمجھے گا کہ ہم اس کے ساتھ ناانصافی کر رہے ہیں۔” وہ سوالیہ لہجے میں بولا۔ …
Author: umeemasumaiyyafuzail
“تم جو کرنا چاہتے ہو کرو۔” مہر نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔ …
حرم کا سامنا ہوا تو شاہ آگے آیا۔ حریم کی سانسیں جیسے تھم سی گئیں، اور قدم بھی وہیں رک گئے۔ شاہ خطرناک سنجیدگی کے ساتھ اس کی طرف بڑھ رہا تھا، ہر قدم کے ساتھ فضا مزید بوجھل ہوتی جا رہی تھی۔ …
“تم یہاں کیا کر رہے ہو؟” شاہویز نے کمرے میں ماریہ کو دیکھ کر چونک سا گیا، پھر سنبھل کر بولا۔ “ماں آپ کے رشتے کے بارے میں بات کر رہی تھیں… تو میں نے سوچا، آپ کو بتا دوں… اور شاید یاد بھی کرا دوں۔” …
لمحے گزر رہے تھے، دن ہفتوں میں بدل رہے تھے۔ شاہ حرم کے ہاسٹل میں کھڑا تھا، جبکہ حرم اپنا سامان اوپر لے جانے میں مصروف تھا۔ …
“سچی مچی کا کیا مطلب؟ جو گاؤں میں نظر آتی ہیں، کیا وہ بھینس نہیں ہوتیں؟” …
عجلت میں بال باندھے، دروازہ لاک کیا اور فون کان سے لگا کر بیٹھ گئی۔ “میں کب سے کال کر رہا ہوں، تم کہاں تھی؟” اذلان کی پریشان آواز نکلی۔ “وہ میرے بال کر رہی تھی۔” اس نے حرم کو سنبھالا اور بات کی۔ “ازلان، ذرا یہ تو بتاؤ کہ تم ہمارے گاؤں کس لیے آئے ہو؟” حرم کافی دیر سے اس بارے میں سوچ رہا تھا۔ ’’میرے چچا ابو کا گھر تمہارے گاؤں میں ہے لیکن اب ہم نہیں آتے۔‘‘ “کیوں؟” بیضول حرم کے ہونٹوں سے پھسل گیا۔ “ہم بے آواز ہیں۔” ازلان نے ناگواری سے منہ بنایا۔…
اللہ معاف کرے ایسی لڑکیوں سے اپنی ماں کو تو کھا گئی اب ہمارے گھر بھی فساد برپا کرنے آ گئی۔۔۔” وہ خاموشی سے منہ بند کیے اندر چلے گئے۔ حریمہ آہستہ آہستہ قدم اٹھا رہی تھی، جیسے ہر قدم اس پر بھاری ہو۔ مہر نے اس کا درد بھرا چہرہ دیکھا تو فوراً اس کی طرف بڑھ آئی۔ “کیا ہوا حریمہ؟ تمہیں کچھ پتہ چلا؟” حرم نے اسے سہارا دیتے ہوئے مضبوطی سے تھام لیا۔ حریمہ نے آہستگی سے نفی میں سر ہلا دیا۔ “وہ نہیں آئیں گے، وہ پھر کبھی نہیں آئیں گے۔” حریمہ روتے ہوئے بول…
“دیکھو ازلان میں نے تمہیں شرٹ بھی لا کر دی تھی دو بار۔۔۔” حرم اونچی آواز میں بولا۔ “تو؟ ازلان نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔ ’’تو تمہیں مجھے کچھ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ حرم سوچتے ہوئے بولی۔ “واہ، بہت خوب کہا۔ میں تمہیں اس کھڑکی سے باہر پھینکنے کا سوچ رہا ہوں۔” ازلان نے کھڑکی سے نیچے دیکھتے ہوئے کہا۔ حرم کا چہرہ پیلا پڑ گیا۔ وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔ “کیا تم پاگل ہو؟ میں مرنے والا ہوں۔” حرم نے چونک کر کہا۔ “پھر کیا ہوا؟” ازلان بڑے اعتماد سے بولا۔ اذلان کے اطمینان کے…
