
لمحے گزر رہے تھے، دن ہفتوں میں بدل رہے تھے۔
شاہ حرم کے ہاسٹل میں کھڑا تھا اور حرم اپنا سامان اوپر لے جا رہا تھا۔
’’اب تم واپس نہیں آؤ گے؟‘‘
انشر اداسی سے بولا۔
“نہیں میرے بھائی نے کہا ہے کہ اب ہاسٹل میں نہیں رہنا۔”
حرم بے بس دکھائی دے رہی تھی۔
“چلو یونی میں ملتے ہیں۔”
انشاہر دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔
حرم ایک ساتھ چلی گئی۔
دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد آئمہ باہر نکلی۔
“کیا تم واقعی جا رہے ہو؟”
آئمہ اس کی تیاری دیکھ کر بے یقینی سے بولی۔
“ہاں بھائی مجھے لینے آؤ۔”
حرم نے اداسی سے کہا۔
“اگر یہ چلا گیا تو میں اسے بیگم صاحبہ کے پاس کیسے لے جاؤں گا؟”
آئمہ غور سے سوچنے لگی۔
“حرم مت جاؤ، بھائی کو منع کرو۔”
آئمہ نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔
“میں اپنے بھائی کو انکار نہیں کر سکتا۔ اس لیے مجھے جانا ہے۔”
حرم شین نے کانپ کر اسے گلے لگا لیا۔
وہ حرم کی سیڑھیاں اترنے لگی۔
آئمہ شکست خوردہ لگ رہی تھی۔
“بکواس”
وہ دروازہ کھٹکھٹاتی اندر چلی گئی۔
“اتنی دیر کیوں لگ گئی؟”
بادشاہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’بھائی وہ سب سے مل رہی تھی۔‘‘
حرم نے گھبرا کر کہا۔
“ملنے میں اتنی دیر لگتی ہے؟”
بادشاہ نے اصول اٹھاتے ہوئے کہا۔
“سوری بھائی”
حرم سر جھکائے بولی۔
شاہ ایک آہ بھرتا ہوا بھرتا کی طرف چلنے لگا۔
اس دن کے بعد سے شاہ انتہائی تلخ اور ٹھنڈے دل کا ہو گیا۔
“تم جاؤ، مجھے حویلی جانا ہے، کوئی مسئلہ ہو تو مجھے کال کرنا۔”
شاہ نے بے تکلفانہ انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
حرم سر ہلا کر باہر نکل گیا۔
شاہ نے گیئر گیئر میں لگایا اور گاڑی چلانے لگا۔
“کیا بابا اسی کمرے میں ہیں؟”
بادشاہ نے نوکرانی سے مخاطب ہو کر کہا۔
’’جی سر، وہ کمرے میں ہے۔‘‘
شاہ نے سانس چھوڑی اور چلنے لگا۔
“شکریہ آپ نے فارم بھی دکھایا۔”
دھوفشاں بیگم مایوسی سے بولیں۔
’’میں بابا سان سے بات کرنے آیا ہوں۔‘‘
بادشاہ بے سمت چلنے لگا۔
دھوفشاں بیگم چونک گئی اور شاہ کو جاتے ہوئے دیکھنے لگی۔
شاہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا کمرے میں داخل ہوا۔
“کیا تم نے فون کیا؟”
یہ کہہ کر شاہ صوفے پر بیٹھ گیا۔
“اگر آپ برخوردار کے گھر آئیں تو آپ کو ہمیشہ فون کرنا پڑتا ہے، آپ آئے تو بھی رات ہو چکی ہے جب سب سو رہے ہیں۔”
اس نے مایوسی سے کہا۔
’’جانتے ہو بابا سان، میں گھر سے کیوں بھاگتی ہوں وہ مجھے بار بار یاد آتی ہے۔‘‘
بادشاہ نے غصے سے کہا۔
“ٹھیک ہے جاو جیسا تم مناسب سمجھو۔ ہم نے تمہیں حرم کے رشتے کی بات کرنے کے لیے بلایا ہے۔”
اس نے بادشاہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
“ہاں… بتاؤ؟”
شاہ نے فون جیب میں رکھا اور اس کی طرف متوجہ ہوا۔
“وہ حرم میں فرقان کا ہاتھ مانگ رہے ہیں۔ میں نے سوچا کہ انہیں آپ سے مشورہ لینا چاہیے۔”
اس نے چہرے پر سنجیدہ نظر ڈالتے ہوئے کہا۔
“ماں اپنے گھر کا ماحول بہتر جانتی ہوں گی، باقی لڑکا ٹھیک ہے، ماں بھی مطمئن ہے تو جواب دو۔”
شاہ کی آواز میں پختگی تھی۔
وہ شاہ کی طرف دیکھنے لگا۔
اتنے کم عرصے میں شاہ ایک منفرد شاہ بن چکے تھے۔
شاہ کچھ کہے بغیر کمرے سے نکل گیا۔
شاہ ٹہلتا ہوا باہر آیا۔
برفیلی ہوائیں جسم کو جما رہی تھیں۔
شاہ نے منہ اٹھا کر پین کی طرف دیکھنے لگا۔
مہتاب کی طرح وہ بھی اکیلا کھڑا تھا۔
اس گھر میں آکر سکون بھی ڈوب جاتا ہے۔
شاہ نے گہرا سانس لیتے ہوئے کہا۔
فون کی گھنٹی نے شاہ کی سوچوں کو توڑ دیا۔
’’ہاں عادل، میں تمہیں کال کرنے والا تھا۔‘‘
بادشاہ نے اس کی پیشانی کو دو انگلیوں سے چھو کر کہا۔
“پھر بابا سائیں نے کیا کہا؟”
عادل کی آواز میں تجسس تھا۔
“میں نے آپ کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ہم اب بھی لڑکوں سے شادی نہیں کرتے، لیکن یہ ناممکن ہے کہ ہم اپنی لڑکیوں کو کبھی اجنبیوں کو نہیں دیتے۔”
عدیل نے ہونٹ بھینچ لیے اور سکرین کو دیکھنے لگا۔
“ٹھیک ہے، کوئی فرق نہیں پڑتا۔”
اس نے اداسی سے کہا۔
شاہ نے بغیر کچھ کہے فون بند کر دیا۔
بیگم صاحبہ یہ لڑکی آئی ہے۔
بنی ایک لڑکی کا ہاتھ پکڑے کھڑی تھی۔
زلیخا بیگم نے سر ہلایا اور بانی نے لڑکی کو آگے بھیج دیا۔
“تمہارا نام کیا ہے؟”
زلیخا نے اس کا سر سے پاؤں تک جائزہ لیتے ہوئے کہا۔
“عجوہ”
وہ اعتماد سے بولی۔
“کہاں سے آئے ہو؟”
اس نے نظریں جھکا کر کہا۔
“راون گاؤں سے۔”
زلیخا بیگم سر ہلانے لگیں۔
“یہاں آنے کی وجہ؟”
وہ سوالیہ نظروں سے بولا۔
“میں پیسہ کمانا چاہتا ہوں۔ میں اچھے کپڑے پہننا چاہتا ہوں۔”
اس نے اداسی سے کہا۔
“تو تمہیں یہ کیوں لگتا ہے کہ یہاں نوٹوں کی بارش ہو رہی ہے؟ تمہیں کام کرنا ہے۔ یہاں سب نے میرے ایک اشارے پر سر جھکا لیا ہے۔”
زلیخا بیگم متجسس نظروں سے اسے دیکھنے لگیں۔
“میں ویسا ہی کروں گا جو تم کہو گے۔ تمہارے حکم کے آگے سر جھکا دوں گا۔”
زلیخا بیگم نے سر ہلا کر بنی کی طرف دیکھا۔
’’اسے لے جاؤ اور کام سمجھاو۔‘‘
وہ ناگواری سے بولا جیسے کوئی احسان کر رہا ہو۔
“تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو؟”
حرم آمنہ کے ہاتھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا جو اس کی آنکھوں کے اوپر تھے۔
“تم دو منٹ بھی خاموش نہیں رہ سکتے، کیا تم؟”
آمنہ کے بجائے انشر شرمندگی سے بولا۔
حرم نے منہ بنایا اور ان کے ساتھ چلنے لگا۔
اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔
اذلان نے جو سیڑھیوں پر بیٹھا تھا، ان سب کی طرف الجھ کر دیکھا۔
کلاس میں پہنچ کر آمنہ نے حرم کی آنکھوں سے ہاتھ ہٹائے۔
حرم خوشگوار حیرت سے اپنے سامنے رکھے کیک کو دیکھ رہا تھا۔
“سالگرہ مبارک ہو۔”
وہ یک زبان ہو کر بولے۔
حرم نے خوشی سے سب کی طرف دیکھا۔
’’اب جلدی کرو ورنہ میرے پیٹ میں دوڑتے چوہے خودکشی کر لیں گے۔‘‘ انشر بے صبری سے بولا۔
حرم نے چاقو اٹھایا اور کیک کاٹنے لگا۔
“حریم اب ایسا کرو، یہ کیک اذلان کے منہ پر رکھ دو۔”
انشر نے شرارت سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“کیا تم پاگل ہو؟”
حرم کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
“کیا تم اذلان سے ڈرتے ہو؟”
آمنہ نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔
“نہیں، لیکن اچھا نہیں لگتا۔”
حریم سختی سے بولی۔
“بے وقوف، ایسا ہی لگتا ہے۔ اب اگر تم کیک نہیں پکاؤ گے تو ہم سے بات مت کرنا۔”
انشر اس کے سینے پر بازو باندھے کھڑا تھا۔
“ہاں یہی کہہ رہا ہے انشر۔”
آمنہ بھی اونچی آواز میں بولی۔
حرم اسے پریشانی میں مبتلا دیکھنے لگا۔
دھنش کوئلہ جلا رہا تھا۔
“ٹھیک ہے۔”
حرم کچھ دیر سوچنے کے بعد بولی۔
انشر اور آمنہ کے چہرے چمک اٹھے۔
حرم نے ایک ٹکڑا کاٹا، ہاتھ میں لیا اور باہر نکل گئی۔
اذلان فون کی سکرین کو گھورتا ہوا بیٹھ گیا۔
وہ کلمہ حرام کا ورد کرتے ہوئے اس کی طرف چلنے لگی۔
ازلان پہلی سیڑھی پر بیٹھا تھا۔
حرم نے پیچھے سے اس کا ہاتھ لیا اور کیک اس کے دونوں گالوں پر رکھ دیا۔
اذلان نے اس کے گال پر لمس محسوس کرتے ہوئے اس کے گال پر ہاتھ بڑھایا۔
میری ہتھیلی پر کریم دیکھ کر میری پیشانی پر دھبے پڑ گئے۔
حرم نے واپسی کی طرف قدم بڑھائے۔
“حرم لڑکی۔”
اذلان بولتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔
حرم نے منہ موڑ کر اس کی طرف دیکھا جو خونخوار نظروں سے اسے گھور رہی تھی۔
اسی وقت حرم سامنے کی دیوار سے ٹکرا گیا۔
“ارے میرے سر۔”
حرم نے اپنا چکرا ہوا سر پکڑتے ہوئے کہا۔
ازلان بمشکل اپنی ہنسی روکتے ہوئے اس کے پاس آیا۔
“اگر آپ نے کچھ غلط کیا تو آپ کو سزا ملے گی۔”
ازلان نے اسے اپنی طرف موڑتے ہوئے کہا۔
حرم بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔
ازلان کو اس پر ترس آیا اور ہنسی بھی آئی۔
اذلان نے ہونٹ دبائے اور حرم کا ہاتھ پکڑ کر چلنے لگا۔
“اب تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو؟”
حرم نے ڈرتے ڈرتے کہا۔
’’اب میں تمہارے کیے کا بدلہ لوں گا، ٹھیک ہے؟‘‘
ازلان نے سنہرے بالوں والی کو برکت دیتے ہوئے کہا۔
حرم کا حلق خشک ہو گیا۔
“ازلان، سچ پوچھو تو میں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا۔”
حرم معصومیت سے بولا۔
“ہاں، ہاں، میں جانتا ہوں، تم کچھ نہیں کرتے، میں سب کچھ کرتا ہوں، ٹھیک ہے؟”
ازلان نے اسے دیوار سے لگاتے ہوئے کہا۔
کبھی حرم اذلان کی طرف دیکھتی اور کبھی اس کے قدموں کو دیکھ کر ہونٹ کاٹ لیتی۔
ازلان اسے گہری نظروں سے تھامے بیٹھا تھا۔
وہ اس کی ہر تصویر کو اپنی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔
حرم اس کی نظروں سے الجھ گئی تھی۔
“ازلان؟”
حرم نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
“شیش”
اذلان نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر حرم کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
حرم پلک جھپکتی نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
اذلان نے اپنا چہرہ حرم کے چہرے کے قریب کیا۔
حرم کی دھڑکنوں میں ہلچل تھی۔
دل حلق سے نکلے گا۔
دل کی دھڑکنیں عجیب طرح سے دھڑکنے لگیں۔
حرم اس کے دل کی دھڑکن سن سکتا تھا۔
اذلان نے اپنا بایاں گال حرم کے بائیں گال سے لگایا۔
حرم نے آنکھیں بند کیں اور سانس لینا بند کر دیا۔
اذلان پیچھے ہٹی تو حرم کے بال رخسار کو چومنے لگے۔
ازلان نے مڑ کر اپنا بایاں گال حرم کے دائیں گال پر رگڑنے لگا۔
حرم کو اپنا دل بند ہوتا ہوا محسوس ہوا۔
اذلان کی بڑھتی ہوئی قربت اسے پگھلا رہی تھی۔
اذلان نے اپنا لمس حرم کے دونوں طرف چھوڑ دیا تھا۔
حرم کے گال سرخ ہو رہے تھے۔
یہ احساس اس کے لیے نیا تھا۔
اذلان نے آگے بڑھ کر حرم کے چہرے کو چوما اور شرارتی تالے اس کے کان کے پیچھے لگائے۔
’’اب میں تم سے بدلہ لینا چاہتا ہوں۔‘‘
ازلان نے دو قدم مخالف سمت میں بڑھاتے ہوئے کہا۔
حرم کی رکی ہوئی سانسیں ٹھیک ہو گئیں۔
“اب بدل گئے؟”
حریم کی آنکھیں پھیل گئیں۔
“ابھی تو میں نے کچھ نہیں کیا۔”
ازلان معصومیت سے بولا۔
حریم نے اس کی طرف جھجکتے ہوئے دیکھا۔
“میں آپ کو چلتی گاڑی سے باہر پھینکنے کا سوچ رہا ہوں۔”
ازلان نے برے لہجے میں کہا۔
“کسی چیز کو پھینکنے کے بارے میں کیا خیال ہے؟”
حرم کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
“جب میں تمہیں پھینکوں گا تو تمہیں پتہ چل جائے گا۔”
ازلان اس کا ہاتھ پکڑ کر مسکراتے ہوئے چلنے لگا۔
حرم مطھر اس کے ساتھ چلنے لگا۔
“ازلان سب باہر ہوں گے تو میرا ہاتھ چھوڑ دو۔”
حرم پریشان نظر آیا۔
“میں نے اپنے عاشق کا ہاتھ تھاما، جس چیز سے ڈرتا ہوں وہ چوری نہیں کر لی۔”
اذلان نے کہا اور سیڑھیاں اترنے لگا۔
حرم ہونٹ کاٹ رہا تھا۔
“یہ کس کی گاڑی ہے؟”
حرم کی پارکنگ میں آ رہا ہے۔
“لوہا”
ازلان نے معصومیت سے کہا اور دروازہ کھولنے لگا۔
حرم نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا۔
“اب بیٹھو۔”
ازلان نے چونک کر کہا۔
“کیا؟ میں تمہارے ساتھ چلوں گا؟”
وہ حریم ششدر کی طرح بولی۔
’’نہیں، میں پولیس والوں کو بلا کر ان کے ساتھ آؤں گا۔‘‘
ازلان نے چونک کر کہا۔
“میں بیٹھا نہیں ہوں۔”
حرم نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
’’میڈم یہ کوئی بس نہیں ہے جس میں آپ کھڑے ہو کر گزر جائیں‘‘۔
ازلان نے اس کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔
“میرا مطلب ہے میں تمہارے ساتھ نہیں جا سکتا۔”
حرم نے جھجکتے ہوئے کہا۔
“کیا؟ کیا کہا؟”
ازلان اسے گھورتا ہوا چلنے لگا۔
“میں، میں کہہ رہا ہوں گھر جانے کا وقت ہو گیا ہے۔”
حرم نے روتا ہوا چہرہ بناتے ہوئے کہا۔
“کیا آپ مجھے گاڑی میں بیٹھنے کو کہہ رہے ہیں؟”
ازلان نے ابرو اٹھا کر کہا۔
’’میں نے کب کہا؟‘‘
حرم اچھل پڑا۔
“اسی لیے تم بیٹھ نہیں رہے، منہ بھر کر کہہ رہے ہو، یہ عجیب لگے گا نا؟”
ازلان نے خوشی سے کہا۔
“نہیں، میں ایسا کیوں سوچوں گا؟ میں بیٹھا ہوں، دیکھو۔”
حرم جلدی سے اندر بیٹھ گیا۔
ازلان مسکراتا ہوا اس کے پاس آیا۔
وہ دروازہ کھول کر اندر بیٹھا اور گاڑی اسٹارٹ کی۔
حرم کا گروپ کبھی اذلان کو دیکھتا اور کبھی کھڑکی سے گزر جاتا۔
گاڑی ویران سڑکوں پر دوڑنے لگی۔
اذلان نے منہ موڑ کر حرم کی طرف دیکھا جو سر جھکائے اس کے ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا۔
’’آج میں تمہیں اپنے ساتھ لے جانا چاہتا ہوں۔‘‘
ازلان نے آگے سڑک کی طرف دیکھا۔
“کہاں؟”
ہرم تجسس سے مڑ گیا۔
“جہاں میرا دل چاہے۔”
ازلان مسکرا رہا تھا۔
“پلیز مجھے گھر چھوڑ دو۔ اگر میرے بھائی کو پتہ چلا تو وہ مجھے مار ڈالے گا۔”
حرم خوف کے زیر اثر بولا۔
“میرا دل چاہ رہا ہے کہ تمھارے ساتھ کہیں کھو جاؤں۔”
ازلان جذباتی ہو کر بولا۔
حرم خاموشی سے ہاتھ رگڑنے لگی۔
“کیا تمہیں محبت گھومتی نظر نہیں آتی؟”
ازلان نے اس کی طرف منہ کرتے ہوئے کہا۔
“ازلان تم جو سوچ رہی ہو وہ ناممکن ہے۔”
حرم آہستہ سے بولا۔
ازلان نے تڑپ کر اسے دیکھا۔
گاڑی شہر کی ہلچل میں داخل ہو چکی تھی۔
وہ مصروف شاہراہوں پر رواں دواں تھے۔
ٹریفک کی وجہ سے
اذلان نے ہاتھ اٹھا کر گانا بجایا۔
آنکھیں دیکھنا چاہتی ہیں
یہ دل تم سے محبت کرنا چاہتا ہے۔
ہم تیرے خیالوں میں گم ہیں۔
ہم کیسے بتائیں کہ دل کا کیا حال ہے؟
آپ کے جسم سے بدبو آنے لگے گی۔
ہم اپنی آنکھوں سے ایسی شرارتیں کریں گے۔
وہ تمہارے سوا کچھ نہیں چاہتے
وہ جب تک زندہ رہیں گے محبت کریں گے۔
حرم اذلان سے ملنے سے گریز کر رہا تھا۔
ازلان کو بے بسی کا احساس ہوا۔
حرم کی نظر شاہ سے ملی اور اس نے فوراً منہ موڑ لیا۔ اس نے ایک چادر اپنے منہ کے سامنے رکھ دی۔
چہرے پر خوف کی لکیریں صاف دکھائی دے رہی تھیں۔
“کیا ہوا؟”
ازلان اس کی حرکت پر حیران ہوا۔
“ازلان اور اس بھائی نے میری طرف دیکھا۔”
حرم کی حالت اس مجرم سے کم نہ تھی جو اپنے جرم کا انکشاف ہونے پر خوفزدہ نظر آتا تھا۔
“تم کہاں ہو؟”
ازلان نے آگے دیکھنے کی کوشش کی۔
“کیا تم پاگل ہو؟ تمہارا بھائی تمہیں دیکھ لے گا تو اور بھی پریشانی پیدا کرے گا۔”
حرم نے اس کا بازو پکڑتے ہوئے کہا۔
ایسی تشویشناک صورتحال میں بھی حرم کی بے حسی اذلان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ لے آئی۔
اذلان نے گاڑی سٹارٹ کی اور تیز کرنے لگا۔
حرم کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
خوف کی ایک سرد لہر اس پر چھائی ہوئی تھی۔
،
“میں برہان بھائی کو دیکھ کر مجرم محسوس کر رہا ہوں۔”
شاہ ویز نے افسوس سے کہا۔
“کیوں؟”
برہان نے فکرمندی سے مڑتے ہوئے کہا۔
“بھائی میری وجہ سے ان کا رشتہ ٹوٹ گیا۔ اب وہ پہلے سے بھی زیادہ ناگوار لگ رہے ہیں۔”
شاہویز نے اداسی سے کہا۔
’’تو تم مہر کے بارے میں کچھ نہیں جانتے؟‘‘
برہان بے تابی سے بولا۔
“نہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ مہر کہاں چلی گئی۔ میرے بھائی نے بھی اپنے بچے کی خاطر اسے ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ کوئی نہیں جانتا کہ مہر کہاں گئی، زندہ تھی یا نہیں۔”
شاہویز نے مایوسی سے کہا۔
“بہت افسوس ہوا سن کر۔”
برہان نے افسوس سے کہا۔
’’یہ دکھ کی بات ہے کہ مجھے جہیز نہ مل سکا اور اس کی وجہ سے میرے بھائی کو بھی تکلیف ہوئی۔‘‘
شاہ ویز کی آواز میں ندامت تھی۔
’’ایسا مت سوچو شاہ ویز، تم نے کچھ غلط نہیں کیا۔‘‘
برہان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
شاہ واعظ نے حیرت سے برہان کی طرف دیکھا۔
“کیا ہوا؟”
برہان نے اس کی آنکھوں کا مطلب سمجھ کر کہا۔
“کچھ نہیں، مجھے آنی سے ملنے جانا تھا۔”
شاہویز نے ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا۔
برہان خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔
این ریسٹورنٹ میں شاہ ویز کا انتظار کر رہی تھی۔
شاہ ویز کو دیکھ کر اس کا چہرہ کھل گیا۔
شاہ ویز اس کے سامنے بیٹھ گیا۔
“کیا ہوا، منہ کیوں اترا ہوا ہے؟”
انیس نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“اینی، میں آج جو کچھ بتانے جا رہا ہوں اس کے بعد میں تم سے بحث نہیں کرنا چاہتا، اس لیے تم خاموشی سے میری بات سنو۔”
شاہویز نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
اینی کو دھمکی دی گئی۔
خدشات پیدا ہونے لگے۔
“کیا؟”
عینی آہستہ سے بولی۔
“میرا بریک اپ ہو رہا ہے۔ میں کافی دنوں سے آپ کو بتانا چاہتا تھا لیکن مجھے موقع نہیں ملا، اس لیے یہ مت سمجھنا کہ میں نے یہ فیصلہ جلد بازی میں کیا ہے۔”
شاہویز پھٹتا دکھائی دیا۔
عینی آنسو بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“ہم خاندان سے باہر شادی نہیں کرتے، اس لیے بہتر ہے کہ ہم وقت پر الگ ہو جائیں۔ اسے بھول جاو، یہ میرے لیے مناسب ہے۔”
شاہ ویز لڑکھڑاتا ہوا بول رہا تھا۔
“کتنی آسانی سے تم نے مجھ سے بھول جانے کو کہا؟ کیا یہ سب مذاق ہے؟ بتاؤ کون مانے گا مجھے؟”
عنایہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
“پہلے آپ کو سوچنا چاہیے تھا کہ میں ایسی لڑکی کیسے بنا سکتا ہوں جسے اپنی عزت نفس کی پرواہ نہ ہو؟”
شاہویز حقارت سے بولا۔
“تمہارا کیا مطلب ہے؟”
عینی نے حیرت سے کہا۔
“وہ لڑکی جس نے شادی سے پہلے میرے ساتھ اتنی راتیں گزاری تھیں، اتنے لڑکوں کے ساتھ ایسا کرے گی؟ اور آج تم سوچ رہی ہو کہ مجھے کون گود لے گا۔ تم کل کیوں نہیں آئے؟”
شاہ ویز اسے آئینہ دکھا رہا تھا۔
“شہویس، میں تم سے پیار کرتا ہوں، اسی لیے میں تمہارے ساتھ ہوں۔”
اینا نے اس پر ہاتھ رکھنا چاہا۔
“محبت ایسی نہیں ہوتی۔ میں سمجھتی ہوں کہ یہ سب محبت میں نہیں ہوتا۔ یہ کہاں لکھا ہے کہ محبت میں یہ سب جائز ہے اور تم لڑکی ہو کر ایسا سوچتی ہو؟ واہ! مجھے پاگل مت سمجھو۔ تم جیسے شخص سے کون شادی کر سکتا ہے؟”
شاہویز نے ہاتھ لہراتے ہوئے کہا۔
اینی اپنا سر ہلا رہی تھی۔
شاہویز گاڑی کی چابیاں لے کر باہر نکل گیا۔
“شاہ ویز؟”
اینی اس کے پیچھے چل پڑی۔
“میڈم بل؟”
ویٹر نے اس کے سامنے آکر کہا۔
عینی نے مایوسی سے اسے جاتے دیکھا۔
،
حرم گھبرا کر سیڑھیاں چڑھنے لگا۔
حریمہ لاؤنج میں نمودار ہوئی۔
“کیا آج دیر نہیں ہو گئی؟”
حریمہ نے حسب معمول پوچھا۔
’’تم نہیں آئے بھائی؟‘‘
حرم نے اس کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔
’’نہیں آج مت آنا‘‘۔
حریمہ نے صوفے پر کپڑا مارتے ہوئے کہا۔
حرم نے سکھ کا سانس لیا۔
“رات کے کھانے میں کیا ہے؟”
حرم نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
’’آج گوشت آپ کی پسند کا پکا ہے۔‘‘
حریمہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“میں بدل کر پھر کھاؤں گا۔”
حرم نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
“ٹھیک ہے، تب تک میں دعا کرتا ہوں۔”
حریمہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“میں حرم اور شاہویز دونوں سے شادی کرنے کا سوچ رہی ہوں۔”
ضوفشاں بیگم نے ماریہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
“ایک بار کرنا ٹھیک ہے اور دونوں فرائض سے استعفیٰ دے دو۔”
ماریہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“میں نے حرم سے رشتہ طے کر لیا ہے، اب میں شاہ ویز کی تلاش میں ہوں۔”
اس نے سوچتے ہوئے کہا۔
“شاہ ویز کی سعدیہ۔”
ماریہ نے اپنی بہن کا نام لیا۔
“دماغ خراب نہیں ہوا ہے تمہاری سعدیہ شاہ ویز سے بڑی ہے میں اس سے کیسے ڈیل کروں؟”
وہ مایوسی سے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔
“یہ اتنا بڑا نہیں ہے، یہ تھوڑا سا مختلف ہے۔”
ماریہ نرمی سے بولی۔
’’میرے بیٹے میں کیا کمی ہے کہ میں اس کی شادی کسی بڑی لڑکی سے کر دوں؟‘‘
وہ اصولوں کو سامنے رکھتے ہیں اور بولتے ہیں۔
اس کے بدلتے ہوئے تاثرات دیکھ کر ماریہ خاموش ہو گئی۔
“آپ کے ابھی تک بچے نہیں ہوئے ہیں، لہذا اگر وہ ایسا نہیں کرتی ہے، تو میں زندگی بھر اپنے پوتے پوتیوں کو یاد کروں گا۔”
اس نے فخر سے کہا۔
ماریہ نے ہونٹ بھینچ کر فرش کی طرف دیکھا۔
دھوفشاں بیگم تنگ چہرے کے ساتھ چلی گئیں۔
ذوفشاں بیگم اندر آئی تو شہریار فائلوں میں سر لیے بیٹھا تھا۔
“تم وہاں کیوں کھڑی ہو؟ اندر آجاؤ۔”
شہریار نے انہیں دروازے میں دیکھ کر کہا۔
دھوفشاں بیگم مسکرا کر اس کے قریب آئیں۔
“کچھ ہوا؟”
شہریار نے فائل بند کرتے ہوئے کہا۔
“ہاں یہ تمہارا کام تھا۔”
اس نے اداسی سے کہا۔
’’ہاں ماں بتاؤ۔‘‘
شہریار نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
“بیٹا میں سوچ رہا تھا کہ تم دوبارہ شادی کر لو اور ماریہ کو طلاق دو۔”
“ماں آپ کیا کہہ رہی ہیں؟”
شہریار نے چونک کر کہا۔
“بیٹا عقل کا استعمال کرو، بادشاہ پھر سے باغی ہو گیا ہے، وہ نہ بولتا ہے اور نہ گھر میں رہتا ہے، پتہ نہیں کہاں چھپا ہوا ہے، اگر اسے مل جاتا تو اس سے بچہ چھین لے گا، لیکن نہیں۔ شاید میرے بچے ہی میرا مقدر ہوں، میں اپنی خوشیوں کو قلم بند نہیں کرنا چاہتا، مجھے لگتا ہے کہ میں اس افسوس کے ساتھ اس دنیا سے چلا جاؤں گا۔
اس نے اداسی سے کہا۔
“تمہارا سایہ ہمیشہ ہم پر رہا ہے تم ایسی باتیں کیوں کر رہے ہو؟”
شہریار نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔
’’اس لیے بتا رہا ہوں تاکہ بچے کی خوشی دیکھ سکوں۔‘‘
اس کا چہرہ اداس تھا۔
“لیکن ماں ماریہ کو طلاق دینا درست نہیں ہے۔”
شہریار نے چھ اور پانچ کا سامنا کیا۔
“تو بتاؤ بیٹا کب تک انتظار کرو گے؟”
اس نے غصے سے کہا۔
“ماں مجھے بھی بچے چاہیے لیکن میں کیا کروں؟”
شہریار نے بے بسی سے کہا۔
“اسلام نے چار شادیوں کی اجازت دی ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ میری نصیحت پر عمل کرو اور سوچو۔”
اس نے شہریار کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
شہریار نے الجھن سے اسے دیکھا۔
ذوفشاں بیگم بغیر کچھ کہے باہر چلی گئیں اور شہریار کو گہری سوچ میں چھوڑ گئیں۔
،
“کیا تم نے برہان کا وقت دیکھا ہے؟”
عافیہ نے ایک آہ بھرتے ہوئے کہا۔
“مجھے زیادہ مت ڈراؤ۔ اپنے وقت میں رہو۔”
برہان نے اس کا بازو پکڑتے ہوئے کہا۔
عافیہ کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔
“آپ مجھے آزاد کیوں نہیں کر دیتے؟”
عافیہ اپنی برداشت کی آخری حد کو چھو رہی تھی۔
“ہاں، تاکہ برہان پورے خاندان میں برائی بن جائے۔ کیا تم پاگل ہو؟”
برہان نے تیز نظروں سے کہا۔
“چاہے آپ کو خاندان میں کتنا اچھا سمجھا جاتا ہو، آپ مجھے بھولے نہیں ہیں۔”
عافیہ بے خوف ہو کر بولی۔
“تم کیوں چاہتے ہو کہ میں تمہیں ہر روز سونے سے پہلے مار دوں؟”
برہان نے اس کے بال پکڑے اور سر اوپر کیا۔
درد کی وجہ سے عافیہ نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھا اور اسے ہٹانے کی کوشش کی۔
“تم مجھے بولنے پر مجبور کر رہے ہو۔”
عافیہ نے نم آنکھوں سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’اگر آپ کے منہ سے ایک اور لفظ بھی نکلا تو نتائج کے آپ خود ذمہ دار ہوں گے۔‘‘
برہان نے اسے بیڈ پر پھینکتے ہوئے کہا۔
عافیہ نے کچھ نہ کہا اور رونے لگی۔
حرم چلتے ہوئے فون کو دیکھ رہی تھی کہ کسی نے اس کی کلائی پکڑ کر کھینچی۔
اس اچانک حملے سے حرم ویران ہو گیا۔
“ازلان تم؟”
حرم ایک تیز سانس لے کر بولی۔
“اس میں کوئی شک کیوں ہے؟”
ازلان نے ابرو اٹھا کر کہا۔
“میرا مطلب ہے کہ مجھے اس طرح کیوں پیش کیا جائے؟”
حرم نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
“کیا آپ کے بھائی نے آپ سے پوچھا؟”
’’نہیں شاید اس نے دیکھا نہ ہو یا آج ہی پوچھنے آئے گا۔‘‘
حرم ہونٹ کاٹتے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔
“یہ اچھی بات ہے اگر آپ کو پتہ چل گیا تو میں آپ کو آزادانہ طور پر گھومنے کے قابل ہو جاؤں گا۔”
ازلان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“ازلان مجھے کلاس میں جانا ہے۔”
حرم نے اسے اپنے سے دور کرتے ہوئے کہا۔
“میری کلاس بھی تمہارے ساتھ ہے تو آج ہم اکٹھے سوئیں گے۔”
ازلان نے اس کے قریب آتے ہوئے کہا۔
“ایک بات کے لیے، تم اتنے قریب آ گئے ہو۔”
حرم نے روتا ہوا چہرہ بناتے ہوئے کہا۔
’’تو کیا مجھے بھی کوئی بیماری ہے جو تمہیں بھی لگ جائے گی؟‘‘
ازلان نے سنہرے بالوں والی کو برکت دیتے ہوئے کہا۔
“نہیں، میرا مطلب ہے اسے دیکھو، وہ لڑکی ہماری طرف دیکھ رہی ہے۔”
حرم نے دائیں طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
“وہ ٹرین لے رہی ہے، بیوقوف.”
ازلان نے خوشی سے کہا۔
خواجہ سرا نے بل اس کے ماتھے پر رکھا اور اسے گھورنے لگا۔
“وہ ہمارے بارے میں کیا سوچ رہی ہوگی؟”
حرم نے دانتوں کے درمیان انگلی کاٹ کر افسوس سے کہا۔
“دونوں کے درمیان بہت پیار ہے۔”
ازلان نے منہ موڑ کر حرم کی طرف دیکھا۔
بے ساختہ حرم اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
“ازلان مجھے کلاس لینی ہے۔”
اس کی نظریں ہارم کو الجھا رہی تھیں اس لیے اس نے سر جھکا لیا۔
“میں نے کہا، اگر آپ نہیں جا رہے ہیں تو کوئی فائدہ نہیں ہے۔”
ازلان دھیمی آواز میں بولا۔
“ازلان پلیز مجھے جانے مت دینا، میں اپنے دماغ سے ڈر رہا ہوں۔”
حرم نے معصومیت سے اسے دیکھا۔
“کیا تم مجھ سے نہیں ڈرتے؟”
ازلان نے دونوں بھنویں اٹھا کر اسے دیکھا۔
حرم نے منہ نہیں کھولا۔
’’تمہیں پتا ہے کل میں ایک فلم دیکھ رہا تھا جس میں شوہر اپنی بیوی کو آگ لگا کر جلا دیتا ہے۔‘‘
ازلان نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔
حرم کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
“آپ ایسی فلمیں کیوں دیکھتے ہیں؟”
حرم نے ڈرتے ڈرتے کہا۔
“وہ میرے سامنے آتی اور میں دیکھتا۔”
ازلان نے معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے کہا۔
“آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے نا؟”
حرم نے اس کی طرف دیکھا اور استفسار کرنے لگا۔
“طریقہ بہت اچھا ہے، لیکن میں اتنا بہادر نہیں ہوں، اس لیے میرا ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ایک بات بتاؤ؟”
ازلان نے خوشی سے کہا۔
“کیا؟”
“کیا تم مجھ سے پیار کرتے ہو؟”
ازلان نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
حرم کو ایسے سوال کی توقع نہیں تھی، جس کا دل آج تک جواب نہیں دے سکا، اس کی زبان کیسے جواب دے گی۔
“نہیں۔ میرا مطلب ہے میں نہیں جانتا۔”
حرم اس کی طرف دیکھنے سے گریز کر رہا تھا۔
“تم جھوٹ بول رہے ہو میری آنکھوں میں دیکھ کر بتاؤ۔”
ازلان نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔
“میں واقعی نہیں جانتا۔”
حرم سر جھکائے بولی۔
“میں تمہیں اس وقت تک جانے نہیں دوں گا جب تک تم اپنا جرم تسلیم نہیں کر لیتے۔”
ازلان اسے ہاتھ اٹھا کر دیکھنے لگا۔
“ازلان کو جانے مت دینا ورنہ سر اُلجھ جائے گا۔”
حرم نے گھبرا کر کہا۔
“پہلے اعتراف کرو۔”
اس کا عجیب ضدی رویہ تھا۔
حریم نے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی لیکن اذلان کی گرفت اس کی سوچ سے زیادہ مضبوط تھی۔
“اگر تم نے اگلے منٹ میں کچھ نہ کہا تو میں تمہیں چلتی ٹرین کے سامنے پھینک دوں گا۔”
اذلان نے ہونٹ دبائے اور مسکراتے ہوئے رک گیا۔
حریم پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا۔
“کیا تم واقعی ایسا کرو گے؟”
حرم تصدیق کرنا چاہتا تھا۔
“بالکل…”
ازلان نے اثبات میں سر ہلایا۔
حرم نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“ایسے مت دیکھو، میں بالکل بھی ترس کھانے کے موڈ میں نہیں ہوں۔” ازلان نے چونک کر کہا۔
حرم نے جھجکتے ہوئے اسے دیکھا۔
“بتاؤ، میں انتظار کر رہا ہوں۔”
ازلان نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
“تم ازٹلان کیسے کہتے ہو؟”
حرم معصومیت سے بولا۔
ازلان کو لگا جیسے اپنا سر دیوار سے ٹکرائے۔
“ایسا کرو، اوپر جاؤ، وہاں سے چھلانگ لگاؤ اور واپس آؤ، پھر میں تمہیں بتاؤں گا کہ یہ کیسے کہنا ہے۔”
ازلان نے چونک کر کہا۔
حرم نے التجا بھری نظروں سے اسے دیکھا۔
لیکن اذلان پر کوئی اثر نہیں ہوا۔
“تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو۔”
حرم نے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا۔
ازلان کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
حرم آہستہ آہستہ آنکھیں کھولنے لگی۔
“آنکھیں کھولو، تم نے بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔”
ازلان نے بریسلٹ لیتے ہوئے کہا۔
“میرا مطلب یہی ہے۔ اب مجھے جانے دو۔”
حرم نے زوردار تقریر کی۔
“میں ابھی جانے دیتا ہوں، اگلی بار معاف نہیں کروں گا۔”
ازلان نے انگلی اٹھائی اور چلنے لگا۔
حرم کے ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ پھیل گئی۔
،
“کیا ہوا عافیہ تم ٹھیک ہو؟”
شہریار اس کے سامنے پریشان بیٹھا تھا۔
عافیہ نفی میں سر ہلانے لگی۔
آنکھیں نمکین پانی سے بھر گئیں۔
“کیا برہان نے پھر کچھ کہا؟”
شہریار نے تجسس سے مڑتے ہوئے کہا۔
“وہ روز کچھ نہ کچھ کہتا ہے۔ میں اس نام نہاد رشتے کو نبھاتے ہوئے تھک گیا ہوں۔”
عافیہ کے لہجے میں عمر بھر کی تھکاوٹ تھی۔
دو موتی ٹوٹ کر رخسار پر گرے۔
“آپ نے ماں سے ہٹانے کے بارے میں بات نہیں کی؟”
شہریار نے اس کا درد بھرا چہرہ دیکھ کر کہا۔
’’تمہیں معلوم ہے، ایسا ایک بار نہیں بلکہ کئی بار ہوا ہے، لیکن میری والدہ کہتی ہیں کہ طلاق کے بعد مجھ سے کون شادی کرے گا، ہم باہر ایسا نہیں کر سکتے، اور خاندان میں گود لینا ممکن نہیں ہے۔‘‘
وہ رونے لگی۔
“تو کیا تم ساری زندگی روتے اور سسکتے گزارو گے؟”
شہریار نے حیرت سے کہا۔
“یہ تو ظاہر ہے۔ عورتیں اپنے حقوق کے لیے نہیں لڑ سکتیں کیونکہ ہمارے پاس حقوق ہونے کے باوجود ہم محروم ہیں۔ ہمارے شوہر ہمارے حقوق سے انکار کرنے میں ماہر ہیں۔”
عافیہ تلخی سے بولی۔
شہریار کے ذہن میں ذوفشاں بیگم کا خیال گھومنے لگا۔
وہ عافیہ کو بچپن سے جانتا تھا، کزن ہونے کے ناطے وہ دوست بھی تھے۔
’’عافیہ تم برہان کو طلاق دو، میں تم سے شادی کروں گی۔‘‘
شہریار کی آواز پر اعتماد تھا۔
عافیہ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔
شہریار سر ہلانے لگا۔
“کیسی ہو؟”
عافیہ کے الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔
“ہم اچھے دوست ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ہم بہترین شراکت دار بنائیں گے۔”
شہریار نے دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
عافیہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
شہریار کا ایسا انکشاف حیران کن تھا۔
“مجھے اس کے بارے میں سوچنے کے لیے کچھ وقت چاہیے۔”
عافیہ سکون سے بولی۔
“تم اپنا وقت نکالو، مجھے کوئی جلدی نہیں میں ابھی جا رہا ہوں، چھوٹی آفس میں اکیلی ہے۔”
شہریار نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
عافیہ اداسی سے مسکرانے لگی۔
“شکریہ شہریار۔”
عافیہ کی بات پر شہریار کے قدم رک گئے۔
شہریار نے منہ پھیر کر مایوسی سے اسے دیکھا۔
“اگر آپ نے دوبارہ شکریہ کہا تو دوستی ختم ہو جائے گی۔”
اس نے نرمی سے کہا۔
عافیہ بس مسکرا دی۔
